Rahmah Foundation

رحمہ فاؤنڈیشن

For every possible service and all-round development of humanity.

انسانيت كى خدمت اورراحت رسانى كى لئى

Rahmah Foundation

For every possible service and all-round development of humanity.

رحمہ فاؤنڈیشن

انسانيت كى خدمت اورراحت رسانى كے لئے

تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ تلوار کا سہارا نہیں لیا جاتا، کبھی کبھی صرف الفاظ کا استعمال کافی ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کے ذہن میں مسلسل یہ احساس بٹھا دیا جائے کہ وہ کمزور ہے، بے اختیار ہے اور دوسروں کی محتاج ہے، تو آہستہ آہستہ وہ قوم اپنی صلاحیتوں، اپنے کردار اور اپنی اجتماعی طاقت کو بھولنے لگتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات سے نہیں بلکہ شعور، تحقیق اور حقیقت کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی قوم کی طاقت صرف اس کی تعداد سے طے ہوتی ہے؟ یا اس کی اصل قوت اس کے اتحاد، تعلیم، کردار، اجتماعی شعور اور مثبت کردار سے بنتی ہے؟

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف زبانیں، تہذیبیں، روایات اور شناختیں صدیوں سے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ یہاں مختلف طبقات، برادریاں اور مذاہب موجود ہیں۔ ایسے میں کسی بھی طبقے کو صرف ایک عدد یا ایک سیاسی نعرے تک محدود کر دینا حقیقت کا مکمل اظہار نہیں ہو سکتا۔

مسلمانوں کو بار بار صرف “اقلیت” کے لفظ میں محدود کر کے پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ کسی بھی قوم کی پہچان صرف تعداد نہیں ہوتی۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی بہت سی قومیں گزری ہیں جو تعداد میں کم تھیں لیکن علم، اخلاق، قیادت اور خدمت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کتنے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کتنے منظم، تعلیم یافتہ، باکردار اور باہمی اختلافات سے بلند ہو کر ایک مقصد کے لیے کھڑے ہیں۔

جب ایک قوم اپنے اندر علم کی طاقت پیدا کرتی ہے، نوجوانوں کو آگے بڑھاتی ہے، معاشرے کی خدمت کرتی ہے اور اپنے اصولوں پر قائم رہتی ہے تو وہ قوم حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے تمام کمزور اور محروم طبقات کے ساتھ انصاف، خیر خواہی اور بھائی چارے کا تعلق قائم کریں۔ انسانیت، عدل اور خدمت وہ اصول ہیں جو دلوں کو جوڑتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوف اور احساسِ کمتری قوموں کو پیچھے لے جاتے ہیں، جبکہ شعور، اتحاد اور مثبت عمل انہیں آگے بڑھاتے ہیں۔

آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ ہمیں کون اقلیت کہتا ہے یا اکثریت، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اگر ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیں، اپنے نوجوانوں کو تیار کریں، تعلیم کو ترجیح دیں اور باہمی اتحاد پیدا کریں تو ہم اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے کردار، علم، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری سے پہچانیں۔

قومیں تعداد سے نہیں، شعور سے بڑی ہوتی ہیں۔

یہ تمام مثبت کوششیں جب ایک مقصد کے تحت جمع ہوئیں تو ایک نام وجود میں آیا: رحمہ فاؤنڈیشن۔

آئیں! ہم سب مل کر مضبوط بنیں، متحد رہیں اور خدمت، شعور اور بھلائی کے اس سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔

قلم: حافظ لقمان احمد
رحمہ فاؤنڈیشن
ممبرا، ضلع تھانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے